حضرت زینب (س) کی ولادت با سعادت

حضرت زینب(س) پانچ جمادی الاول کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا اسم گرامی زینب، کنیت ام الحسن اور ام کلثوم ہے۔ اور القاب صدیقہ الصغریٰ، عصمۃ الصغریٰ۔ ولیۃ اللہ العظمیٰ، ناموس الکبریٰ، شریکۃ الحسین، عالمہ غیر معلمہ، فاضلہ، کاملہ، وغیرہ ہیں۔ آپ کے والد گرامی مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیھما السلام اور مادر گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا ہیں۔ جب جناب زینب نے دنیا میں قدم رکھا، پیغمبر اسلام(ص) مدینہ میں نہیں تھے جناب فاطمہ زہرا(س) نے حضرت علی (ع) سے فرمایا: بابا سفر پر ہیں آپ میری بیٹی کا نام انتخاب کیجئے۔ حضرت علی (ع) نے فرمایا: میں آپ کے بابا پر سبقت حاصل نہیں کر سکتا صبر کریں جب رسول خدا واپس آئیں گے خود نام رکھیں گے۔

جب تین دن کے بعد رسول خدا (ص) واپس آئے جیسا کہ سیرت رسول اسلام تھی سب سے پہلے حضرت زہرا (س) کے گھر تشریف لائے امام علی (ع) نے آپ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! خدا وند عالم نے آپ کی بیٹی کو ایک بیٹی عطا کی ہے آپ اس کا نام معین کریں۔ آپ نے فرمایا: اگر چہ فاطمہ کی اولاد میری اولاد ہے لیکن یہ امر خدا کے ہاتھ میں ہے میں وحی کا منتظر ہوں۔ اسی اثنا میں جبرئیل تشریف لائے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! خدا نے سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے: اس نومولود کا نام زینب رکھ دو۔ اس لیے کہ لوح محفوظ پر یہی نام لکھا ہوا ہے۔

رسول خدا نے اس نومولود کو طلب کیا اور اسےسینے سے لگایا اور اس کا نام " زینب" رکھا۔ اور فرمایا: میں اپنی امت کےحاضرین اور غائبین کو وصیت کرتا ہوں کہ اس بیٹی کی حرمت کا پاس و لحاظ رکھیں اس لیے کہ یہ خدیجۃ الکبریٰ کے شبیہ ہے۔

آپ کی ذهانت

صاحب کتاب" اساور من ذھب" جناب زینب(س) کی ذہانت اور ذکاوت کے بارے میں لکھتے ہیں: اس خاتون بزرگوار کی ذہانت اور ذکاوت کے بارے میں اتنا کہنا کافی ہے کہ وہ طولانی اور مشکل خطبہ جو جناب زہرا(س) نے اپنےحق کے دفاع میں دربار صحابہ میں دیا اسے بعینہ انہوں نے حفظ کر لیا اور اسے روایت کیا۔

ابن عباس علم حدیث میں اپنے بلند مقام اور عظمت کے باوجود جب اس خطبہ کو آپ سے روایت کرتے ہیں تو آپ کو عقیلہ کا لقب دیتے ہیں۔

ابوالفرج اصفہانی اپنی کتاب مقاتل میں لکھتے ہیں: ابن عباس نے جناب زہرا(ع) کے خطبہ کو حضرت زینب(س) سے نقل کیا ہے اور کہتے ہیں حدثتنی عقیلتنا زینب بنت علی علیھما السلام۔

غور کریں جناب زینب اس وقت سات سال کی تھیں جب اس مشکل اور طولانی خطبہ کو کہ جو اسلامی معارف اور احکام کا دریا ہے ایک مرتبہ سن کر حفظ کر لیتی ہیں اور اس خطبہ کی راوی کہلاتی ہیں۔

فصاحت و بلاغت

آپ کے خطبات کہ جو آپ نے کربلا سے کوفہ اور شام کے راستے میں بیان فرمائے خود آپ کی فصاحت و بلاغت کی بولتی تصویر ہیں یہاں تک کہ سننےوالے اس سوچ میں پڑ گئے کہ کہیں علی (ع) تو نہیں بول رہے ہیں۔ یہ یہی خاتون ہیں کہ جن کے بارے میں امام سجاد(ع) نے فرمایا:

«اَنْتِ بِحَمدِ اللّهِ عالِمَةٌ غَيرَ مُعَلَّمَة وَ فَهِیمَةٌ غَيرَ مُفَهَّمَة

، اے پھوپھی جان الحمد للہ آپ عالمہ غیر معلمہ ہیں اور ایسا فہم و ادراک رکھنے والی ہیں جو کسی نے آپ کو نہیں دیا ہے۔

یہاں پر آپ کے ایک خطبہ کے چند فراز پیش کرتے ہیں:

خدا کی قسم اے یزید! تونے جو کچھ کیا اس کی بازگشت خود تمہاری طرف ہو گی اس لیے کہ تو نے صرف اپنی کھال کو اتارا ہے اپنے گوشت کو نوچا ہے۔

اےیزید! اس دن جب خدا ہمارے شہیدوں کے پاک بدنوں کو حاضر کرے گا تا کہ اپنا حق اپنے دشمنون سے لیں تو بھی رسول خدا کے سامنے لایا جائے گا لیکن کیا تو جانتا ہے کس حال میں؟ اس حال میں کہ تو نے رسول خدا کی ذریت کا خون پیا ہے اور ان کی حرمت کو پارہ پارہ کیا ہے۔

ہاں اے یزید! تو اس ظاہری کامیابی کہ جو تو نے حاصل کی ہے سے خوش نہ ہونا اور جنہیں تو نے کربلا میں خاک وخون میں غلطاں کیا ہے انہیں مردہ نہ سمجھنا " وہ لوگ جو راہ خدا میں قتل کئے جاتے ہیں انہیں مردہ تصور نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور خدا کے حضور میں رزق و روزی حاصل کر رہے ہیں۔(سورہ آل عمران،۱۶۹)

حضرت زینب (س) دنیائے اسلام کی وہ عظیم الشان خاتون ہیں جنہوں نے واقعہ کربلا کو حیات جاوندانگی دی ہے یزیدیت کو دنیائے اسلام میں ننگا اور برہنہ کر کے رکھ دیا۔ آپ حقیقت میں جناب زہرا(س) کا نمونہ کامل تھیں اس لیے زینب نے آپ ہی کی مہر و محبت بھری آغوش میں رہ کر اسلام اور قرآن کے چشمہ زلال سے فیض اٹھایا ہے۔

جناب زینب(س) کی واقعی رسالت اس وقت شروع ہوئی جب امام حسین(ع) کی شہادت کی بعد قافلہ سالاری کی ذمہ داری آپ کے دوش پر آگئی اور کوفہ اور شام کے دشمن بھرے راستوں سے اس قافلہ کو لیکر گذرنا پڑا۔

واقعہ کربلا کے بعد اساسی اور بنیادی کردار در حقیقت جناب زینب (س) نے ہی نبھایا ہے اس لیے کہ اگر آپ نہ ہوتیں یا آپ کے شجاعانہ خطبات نہ ہوتے تو واقعہ کربلا کا نام و نشان تاریخ میں نظر نہ آتا یا اگر کہیں نظر بھی آتا تو اصلی چہرہ محو کر دیا ہوتا۔

آپ نے ان تصورات کو کوفیوں اور شامیوں کے اذہان سے پاک کیا کہ حسین (ع) نے خلیفہ وقت پر خروج کیا ہے لہذا واجب القتل ہے۔ جناب زینب(ع) نے ہی بنی امیہ کے گھولے ہوئے زہر کو خود انہیں پینے پر مجبور کر دیا اور حسینیت کو زندگی ابدی عطا کی۔

جناب زینب(س) زہد و تقویٰ کا مجسمہ، علم و دانش کا سمندر، عفت و طہارت کا مرکز اور اخلاق الٰہیہ کا پیکر ہیں یہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے باطل کا مقابلہ کرنے اور راہ خدا میں فداکاری اور جانفشانی کرنے اور پرچم حق کو سر بلند کرنے کی راہ میں تمام چیزوں سے چشم پوشی کرنے کا درس دیا ہے۔

اس خاتون کے ایثار و فداکاری، صبر و بردباری، سنجیدہ اور منطقی گفتگو نے ایک ایسا بے مثال چہرہ چاہنے والوں کے اذہان اور قلوب میں مجسم کیا ہے کہ قیامت تک نسل در نسل جب تک روی زمین پر حیات ہے سورج چمک رہا ہے یہ فروزاں چراغ کی طرح روشن اور چمکتا رہے گا۔

پہلا صفحہ  
زندگی نامہ  
تالیفات  
دروس  
انٹرویوز  
تصاویر  
یادیں  
هم سے رابطه كيجئے
مرتبط سائٹس  
مناسبتها