پہلا صفحہ » مناسبتها »

سینما کالج کے پرنسپلز نے آیت اللہ شیخ جواد فاضل لنکرانی سے ملاقات کی(۳،۳،۸۹)

بسمہ تعالی

اس ملاقات میں جناب آقائے اکبری نے اس کالج کے ذریعے حوزہ علمیہ کے فضلاء کی ہنری امور میں تعلیم و تربیت کے سلسلے میں کارکردگی کی رپورٹ پیش کرنے کے بعد کہا: عصر حاضر میں تبلیغ دین کرنے میں ہنر اور میڈیا کا رول حد سے زیادہ کار ساز ہے۔ اور حوزہ علمیہ کی اس چیز سے غفلت بہت بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ لہذا طلاب کو اس کام کی طرف بھی توجہ دلائی جانی چاہیے۔

اس کے بعد آیت اللہ فاضل لنکرانی نے فرمایا:

آپ کی تشریف آوری پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ میری نظر میں یہ کام بہت مہم اور ایک مبارک قدم ہے، دینی لحاظ سے بھی اور علمی اعتبار سے بھی اور اس اعتبار سے بھی کہ ہمارا نظام حکومت بھی اس چیز کا تقاضا کرتا ہے کہ ہمارے طلاب اور فضلاء اس میدان میں قدم رکھیں۔ اس کام کی ضرورت میں تو کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ہےخاص کر کے اس کے علمی اور دینی پہلو کے اعتبار سے۔

دوسری بات یہ کہ ہمیں توجہ کرنا چاہیے کہ یہ مسئلہ دو طرفہ ہے۔ ایک طرف سے سینما والوں کو کچھ باہنر اور دین میں صاحب نظر افراد کی ضرورت ہے لیکن دوسری طرف سے ہم نے ابھی تک دین کے ہنری پہلو کی طرف توجہ نہیں کی ہے۔ ہم اس بات کے معتقد ہیں کہ ہمارا دین ایک جامع دین ہے، تمام ثقافتی، اعتقادی، سیاسی اور اجتماعی پہلو اس میں پائی جاتے ہیں۔ حتی اگر ہم اسلامی حکومت میں زندگی نہیں بھی گذار رہے ہوتے تب بھی حوزہ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ دین کے ہنری پہلو کی طرف توجہ کرے۔ ایک دن امام امت (رہ) نے دین کے سیاسی پہلو کو اجاگر کیا۔ آج دین کے ہنری پہلو کو آشکار کرنے کی ضرورت ہے۔ مسائل دین کو ہنر کے سانچے میں ڈھالنےکی ضرورت ہے۔ جیسا کہ آج بچوں سے مربوط فقہی مسائل، خواتین سے مربوط فقہ، قضا اور فیصلوں سے مربوط فقہی مسائل کو مستقل طور پر بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا ہم نےمرکز فقہی میں  ایک کمیٹی فقہ ہنرکے عنوان سے تاسیس کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ دین کے مقاصد کو ہنر کے سانچے میں ڈھال کر پیش کریں۔

بنا برایں جیسا کہ سینما کالج نے اس ضرورت کا احساس کیا ہے حوزہ کو بھی چاہیے کہ اس ضرورت کا احساس کرے۔اور اس کو عملی جامہ پہنائے۔

تیسری بات یہ کہ، اگر آپ ان افراد سے جنہوں نے کئی سال درس خارج پڑھا ہے کام لینا چاہیں گے تو انشاء اللہ اس مقصد میں کامیاب ہوں گے۔ یہ افراد کم سے کم اجتہاد کے مبانی سے آشنا ہیں۔ لہذا اچھے طریقے سے مطالب کی وضاحت کر سکتے ہیں اور کام کو علمی اور مستدل طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔ امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ یہ کام کہ جو ایک مبارک قدم ہے پوری دقت اور تدبیر کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور اس کا اچھا نتیجہ جمہوریہ اسلامی نظام اور حوزہ کے لیے سامنے آنا چاہیے۔ ہم بھی اس کام میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ جو بھی خدمت مرکز فقہی سے ہو سکی انجام دینے کو آمادہ ہے۔

کوشش کریئے حوزہ کے تحقیقی مراکز سے رابطہ قائم کر کے تحقیقی کاموں کو قوی تر بنایئے تاکہ یہ مستدل اورمستحکم تحقیقیں مستقبل میں آپ کے کاموں کی بنیاد بن سکیں۔