مرجعیت شیعہ (مرحوم آیة اللہ فاضل لنکرانی رہ) کی بیداری
۲۲۔۵۔۶۸ہجری شمسی کو سوموار کے دن خبر رسان اداروں کے ذریعہ اس خبر
کو بتایا گیاکہ کی ایک آدمی نے کی جس کا نام عرفانیان ہے اس نے امام زمانہ عجل اللہ
تعالیٰ فرجہ الشریف سے ملاقات کا دعویٰ کیا ہے اور بہت سارے جھوٹ اور انحرافات کو
پیش کیا ہے مجھے کچھ سال پہلے کا زمانہ یاد آگیاکہ اسی
آدمی نے پانچ افراد کو قم بھیجا تھااور افسوس کی بات یہ کی ان میں
ایک بوڑھا روحانی اور باقی نوکر یا
بازاری آدمی تھے ایک دن عصر کے وقت ہمارے دفتر میں آئے اور کہا کہ
ہم جناب سے ملاقات کرنا
چاہتے ہیں اور ان سے ایک بہت ضروری کام ہے
آدمی نے پانچ افراد کو قم بھیجا تھااور افسوس کی بات یہ کی ان میں
ایک بوڑھا روحانی اور باقی نوکر یا
بازاری آدمی تھے ایک دن عصر کے وقت ہمارے دفتر میں آئے اور کہا کہ
ہم جناب سے ملاقات کرنا
چاہتے ہیں اور ان سے ایک بہت ضروری کام ہے
میں نے ان سے کہا جناب عصر کے وقت دفتر میں نہیں آتے ہیںوہ اکثر
ظہر سے پہلے دو گھنٹہ
تشریف لاتے ہیں (کتنی بھی تکھاوٹ کیوں نہ ہو حتی ٰگرمی کے موسم میں
بھی اس بات کے پابند تھے )
آخر کار میں نے ان سے پوچھا بات کیا ہے ؟پہلے انھوں نے بتانے سے
انکار کر دیا اور کہا
کہ ہم صرف اپ کے والد بزرگوار سے ملنا چاہتے ہیں اور ان سے ایک
خصوصی بات
کرنا ہے میں نے ان سے سختی سے کہااگر کوئی بات ہے تو بتائیں وگرنہ
آپ جا سکتے ہیں۔
انھوں نے کچھ مشورہ کرنے کرنے کے بعد کہا کہ ہم ایک آدمی جسکا نام
عرفانیان جو کہ جو تہران میں ہے
اسکی طرف سے آے ہیں اور وہ ایسا شخص ہے کہ جو تینوں وقت کی نماز
امام زمانہ کے ساتھ پڑہتاہے اور
امام زمانہ نے اس سے کہا ہے کہ میرا یہ پیغام آقای فاضل لنکرانی تک
پہونچائیں اور کہاکہ امام نے
ایک اور پیغام بھی اسی آدمی کے ذریعہ کسی دوسرے مرجع کیلئے
بھیجاتھااورہم یہاں آنے سے پہلے
وہاں جا چکے ہیں اور انھوں نے بہت غور سے اس بات کو سنا۔
میں نے ان سے کہا کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس مرجع محترم کیلئے کیا
پیغام دیا تھاانھوں
ایک اور پیغام بھی اسی آدمی کے ذریعہ کسی دوسرے مرجع کیلئے
بھیجاتھااورہم یہاں آنے سے پہلے
وہاں جا چکے ہیں اور انھوں نے بہت غور سے اس بات کو سنا۔
میں نے ان سے کہا کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس مرجع محترم کیلئے کیا
پیغام دیا تھاانھوں
نے ایک نوشتہ کہ جو بہت ہی بد خط اور فارسی میں تھامجھے دکھایاکہ
جس میں آیا تھا آقای۔۔۔کیوں
میری ماں زہرا سے مخالفت کر رہے ہواور جو فتویٰ کہ نماز میں حضرت
زہرا (س)کی عصمت
کی گواہی نہیں دی جاسکتی جتنا جلدی ہو سکے اسکو واپس لے لیں ۔میں
اس سے پہلے کہ اس بارے میں
اپنے والد بزرگوار کے پیغام کو سنتا میں نے کہاامام زمانہ نے اس خط
کو فارسی میں کیوںلکھا ہے
اور بد خط لکھا ہے ؟
اور اس میںکچھ ادبی غلطیاں بھی موجود تھیں مین نے اس بات کی طرف
توجہ نہیں کی او ر اس
مولوی سے کہاآپ نے تو حوزہ علمیہ میں تعلیم حاصل کی ہے کیوں آپ نے
اس جھوٹی بات
پر یقین کر لیا ہے ؟
اس نے کہا یہ آدمی دوسرے مدعیوں کے ساتھ فرق رکھتا ہے اور
اصلاًمقام اور شہرت
کے پیچھے نہیں ہے ۔میں نے اس کہا کیا آپ یہ نہیں پڑھا ہے کہ امام
زمان علیہ السلام نے
اپنے چوتھے نائب سے کہا کہ تیرے بعد کوئی بھی مجھے دیکھ نہیں پائے
گااور جس نے بھی میرے
دیکھنے کا دعویٰ کیااس کی تکذیب کر دیں اور وہ تہمت لگانے والا اور
جھوٹا ہے تو کیا
میں اب امام زمان(ع)کی بات کو قبول کروں یا پھر اس آدمی کی بات کو۔
وہ بوڑھا آدمی کوئی جواب نہ دے سکااور مجھ سے کہا اپ کو بہت ساری باتوں کی خبر
نہیں اور مجھے یقین ہے اگر ہمارے اس پیغام کو
اپنے والد بزرگوار تک پہونچائیں گے تو بہت ساری چیزوں کا راز اپکے
لئے کھل جائے گااور
ابھی اپ کو پتہ نہیں کہ اپ کے والد بزرگوار کا امام زمانہ (ع)سے
کتنا رابطہ ہے !!!
اسی بیچ ایک آدمی نے میری طرف رخ کیا اور کہا آقا جواد کیاااپ مجھے
پہچان رہے ہیں ؟
میں نے کہا:نہین
اس نے کہا میںنے62.61کے سالوں میں مدرسہ رضویہ میں اپ سے کتاب
معالم کو پڑھا ہے
اور اس وقت میں طالب علم تھااوراس وقت اپکے اعتقادات تو بہت قوی
تھے آج آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں ؟
میں نے تعجب کے ساتھ اس سے کہااگر حوزہ کو ترک نہیں کیا ہوتا تو آج
یہ ساری مشکلات پیش نہ آتیں
ان چہ مہ گوئیوں کے بعد انھون نے کہا اپ ایک اچھے امانتدار ہیں اور
ہمارے اس پیغام کو
اپنے والد بزرگوار تک پہونچا دیں دیکھیں وہ کیا فرماتے ہیں ؟
انھوں نے کہا پیغام یہ ہے کہ امام زمان علیہ السلام نے عرفانیا سے
کہا ہے کہ آقای فاضل سے میرا
سلام کہنا اور ان سے کہنا کہ اس طوفانی رات کو کھبی نہیں
بھولنا!!!!
میں نے بھی ان سے کہا کل ان کی خدمت میں عرض کروںگا اور آپ کل ظہر
کے وقت مجھ سے
اس کاجواب لے لیں ۔
دوسرے دن جب میں والد بزرگوار خدمت میں پہونچااور ساری بات کو
بتایا وہ بہت متاثرہوے
اور کہا کیوں کچھ لوگوںنے امام زمان علیہ السلام کے مسئلہ کو کھیل
سمجھ رکھا ہے ؟کیوں لوگوں کے
عقائد سے سوءاستفادہ کر رہے ہیں ؟اور بنیادی طور پر وہ اس طرح کے
جھوٹے دعوے کہ آج ہمارے زمانے میں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں بہت دکھ اٹھاتھے تھے اور
اس بات کے معتقد تھے کی ایسے
مسائل اسلام کی بنیاد کو ختم کر ڈالیں گے۔
انھوں نے جواب میں فرمایا:پہلے تو ان لوگوں کو نصیحت کرواور ان سے
کہوکہ عرفانیان کہ جس کو میں
ابھی تک دیکھا ہی نہیں ہے وہ ایک جھوٹااور تہمت لگانے والا آدمی ہے
اور وہ اپنے اپ کو
اس سے بچائیں اور اس کے دھوکہ میں نہ ائیں اور فرمایا کہ ان سے
کہیں کہ میں نے اپنی عمر
میں بہت ساری طوفانی راتوں کو دیکھا ہے اور ان میں،میں نے کوئی خاص
چیز نہیں دیکھی اور نہ ہی مجھے
کچھ یا دہے ۔
جب میں نے جواب کو ان تک پہونچایاانھوں نے جواب میں کہا:ہم یہ سوچ
رہے تھے کہ ان کا
امام سے بہت گہرا رابطہ ہے لیکن معلوم ہوتا ہے وہ اس سلسلہ میں
ضعیف ہیں ۔
ہمیں واقعاًافسوس ہونا چاہیے کہ کس طرح لوگوں کے ذہنوں کو خراب
کیا ہے کہ حتی ٰ
وہ مرجع تقلید کہ جو ہمارے اعتقادات کے مطابق امام زمان ؑکے نائب
ہیں کے بارے میں
ایسی گستاخی کرتے ہیں ۔
یہ بات ختم ہو گئی یہاں تک کہ ایک دن (وزیر اطلاعات
intelligence minister)
حجةالاسلام جناب یونسی والد بزرگوار کی خدمت میں پہونچے۔ہمارے والد
گرامی رحمةاللہ علیہ نے
ان سے کہا....:آپ کیوں ایسے لوگوں کی ساتھ کہ جو معاشرے میں لوگوں
کے عقاید کے ساتھ کھیلتے ہیں
سختی سے پیش نہیں آتے ہیں اور لوگوں کے اچھے عقاید سے سوءاستفادہ
کرتے ہیں کیوں انکو ہڑکایا نہیں جاتا؟
کیوں اعتقادی امنیت کی طرف توجہ نہیں کرتے ہیں ؟امنیت صرف ظاہری
اور عادی مسائل میں نہیں
ہے اور اس واقعہ کو بیان کیاتو آقا یونسی نے کہا ہم اس بات کا
پیچھا کریں گے۔
اس کے بعد پھر ان سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے آقا سے کہا جن مسائل
پرہم نے
گفتگو کی اوراس بد بخت نے کتنے لوگوں کو گمراہ کیا اس ساری داستان
کو بیان کیا
یہاں تک کہ ان میں کچھ روحانی بھی تھے کہ ہم نے بعض تصاویر میں
دیکھا کہ انھوں نے لباس
احرام باندھا ہوا ہے اور تہران اور کرج میں ایک کعبہ بنایا ہے اور
عرفانیان نے ان سے کہا تھا
حج کیلئے سعودی عرب مت جاﺅ بلکہ یہیں پر طوف کرو ۔
ہم سچ میں خدا کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ مراجع کرام کے گھروں میں
اس طرح کے مسائل کشف
ہوتے ہیں او رانکو بے اثر اور بے نقاب کیا جاتا ہے اور ہم نے نزدیک
سے دیکھا کہ اس بیدار مرجع نے کس طرح ان خرافات سے مقابلہ کیااس دور کے بہت سارے
واقعات ہیں جن کو کسی اور مناسبت
ذکر کریں گے۔
محمد جواد فاضل لنکران
25/5/86
|